لِسٹیریا کی بیماری بالعموم Listeria monocytogenes نامی بیکٹیریا سے آلودہ خوراک کھانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لِسٹیریوسس حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں کے لیے ایک خطرناک بیماری ہے۔ اس انفیکشن کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے کیا جاتا ہے۔
لِسٹیریوسس ایک بہت کم پائی جانے والی بیماری ہے جو Listeria monocytogenes نامی بیکٹیریا سے آلودہ خوراک کھانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہمارے ماحول اور کچھ کچی غذاؤں میں لِسٹیریا بیکٹیریا عام ہیں۔ لِسٹیریا بیکٹیریا سے آلودہ چیزیں کھانے والے زیادہ تر لوگ بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نیو ساؤتھ ویلز میں ہر سال بالعموم لِسٹیریوسس کے 20 سے 30 کیس ہوتے ہیں۔ اگرچہ لِسٹیریوسس شاذونادر ہی ہوتا ہے، اس کے کیسوں میں بہت زیادہ اموات ہوتی ہیں۔
انکیوبیشن (انفیکشن لگنے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کا) عرصہ 3 سے لے کر 70 دن تک ہو سکتا ہے لیکن اوسطاً یہ عرصہ 3 ہفتے کے قریب ہوتا ہے۔ اس انفیکشن کی وجہ سے خون میں زہریلے اثرات (septicaemia) اور میننجائٹس (دماغی سوزش) ہونا ممکن ہے۔ حمل کے دوران انفیکشن حمل گرنے، مردہ بچے کی پیدائش اور نوزائیدہ بچے کو انفیکشن لگنے کا سبب بن سکتا ہے۔
علامات میں یہ شامل ہیں: بخار، پٹھوں کا درد اور کبھی کبھار معدے اور آنتوں کی علامات جیسے متلی اور دست۔ زیادہ شدید صورت میں مریض کے ہوش و حواس ختم ہونے اور شاک میں چلے جانے کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اگر انفیکشن مرکزی نظام عصبی تک پھیل جائے تو سر میں درد، گردن میں اکڑاؤ، ذہنی الجھاؤ، توازن کی خرابی، جسم کو جھٹکے لگنے اور کوما جیسی علامات پیش آ سکتی ہیں۔ ان مریضوں میں سے تقریباً ایک تہائی کی موت ہو سکتی ہے۔
لِسٹیریا بیکٹیریاتمام فطری ماحول میں عام ہیں کیونکہ یہ پالتو جانوروں اور جنگلی جانوروں کی بہت سی قسموں میں موجود ہوتے ہیں۔ کچے گوشت، پاسچرائزیشن کے بغیر دودھ، کچے پھلوں اور سبزیوں میں یہ بیکٹیریا موجود ہو سکتا ہے۔
جن لوگوں کے لیے لِسٹیریوسس کا خطرہ ہے، انہیں لِسٹیریا بیکٹیریا سے آلودہ خوراک کھانے سے لِسٹیریوسس ہو سکتا ہے۔ اگر ماں نے حمل کے دوران لِسٹیریا سے آلودہ خوراک کھائی ہو تو بچہ لِسٹیریوسس کے ساتھ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کے زیادہ کیس ہونے کا تعلق کچے دودھ، پنیر کی نرم قسموں، تیار ملنے والے سلاد (جیسے سلاد بار میں)، نہ دھلی ہوئی کچی سبزیوں، paté (کلیجی یا قیمے کی مصنوعات)، ٹھنڈی کٹی ہوئی مرغی، راک میلن اور پہلے سے کاٹ کر رکھے گئے پھلوں اور فروٹ سلاد سے پایا گیا ہے۔
حاملہ خواتین اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے، نوزائیدہ بچے، بوڑھے لوگ اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے لوگ (جیسے: کینسر کا علاج یا سٹیرائیڈز لینے والے لوگ، اور ذیابیطس، گردوں کی بیماری، جگر کی بیماری اور HIV انفیکشن رکھنے والے لوگ)
لِسٹیریوسس کی روک تھام کے لیے:
زیادہ خطرہ پیدا کرنے والی چیزیں نہ کھائیں (نیچے تفصیل دیکھیں)
لِسٹیریوسس کا زیادہ خطرہ رکھنے والوں کو یہ چیزیں نہیں کھانی چاہیئں:
لِسٹیریوسس کی تشخیص خون کے ٹیسٹ یا ڈاکٹر کے کروائے ہوئے دوسرے ٹیسٹوں سے ہو سکتی ہے۔
اس کے علاج میں اینٹی بائیوٹکساور علامات کا علاج شامل ہیں۔ حمل کے دوران انفیکشن کی صورت میں اینٹی بائیوٹکس اکثر پیٹ میں بچے یا نوزائیدہ بچے کو انفیکشن سے بچا سکتی ہیں۔ فوری علاج کے باوجود کچھ مریض، بالخصوص بوڑھے اور دوسرے شدید طبی مسائل رکھنے والے مریض، انفیکشن کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
لیبارٹریاں اپنے لوکل پبلک ہیلتھ یونٹ کو لِسٹیریوسس کے کیسوں کی اطلاع دینے کی پابند ہیں۔
پبلک ہیلتھ یونٹ کا عملہ ڈاکٹر اور مریض (یا اس کے گھر والوں) کا انٹرویو کر کے معلوم کرے گا کہ انفیکشن کیسے ہوا تھا۔
NSW Health کے ساتھ کام کرتے ہوئے NSW Food Authority ماحول میں لِسٹیریوسس کی چھان بین کے لیے ذمہ دار ہے۔
اگر آپ کے لیے لِسٹیریوسس کا خطرہ ہے اور آپ کے کوئی سوالات ہیں تو آپ کو اپنے معالج یا لوکل پبلک ہیلتھ یونٹ سے رابطہ کرنا چاہیے۔
لِسٹیریوسس کی روک تھام کے متعلق مزید معلومات کے لیے دیکھیں