ڈینگی کے متعلق معلوماتی پرچہ

​​ڈینگی وائرس لوگوں میں ان مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے جن میں ڈینگی وائرس کا انفیکشن ہو۔ ڈینگی وائرس انفیکشن (جسے ڈینگی بخار بھی کہا جاتا ہے) کی علامات شدید فلو جیسی ہوتی ہیں۔ یہ وائرس اور اسے پھیلانے والے مچھروں کی قسمیں ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا کے ٹروپیکل اور سب ٹروپیکل ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والوں کو انفیکشن کی روک تھام کی خاطر مچھروں کے کاٹنے سے بچنا چاہیے۔

ڈینگی سے کیا مراد ہے؟

ڈینگی ایک وائرل انفیکشن ہے جو چار قسموں کے ڈینگی وائرس (DENV-1 ، DENV-2 ، DENV-3 اور DENV-4 ) میں سے کسی ایک کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مچھروں کی دو قسمیں ڈینگی وائرس پھیلا سکتی ہیں: ڈینگی مچھر (Aedes aegypti) اور ایشیئن ٹائیگر مچھر (Aedes albopictus) ۔ ڈینگی ننھے بچوں، بڑے بچوں اور بالغوں کو متاثر کرتا ہے۔

ڈینگی کی علامات کیا ہیں؟

جس شخص کو ڈینگی بخار ہو، اس میں شدید فلو جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جیسے:

  • اچانک بخار
  • کپکپی
  • سر میں شدید درد اور آنکھوں کے پیچھے درد
  • سوجے ہوئے غدود
  • پٹھوں اور جوڑوں میں درد
  • انتہائی تھکن
  • پیٹ میں درد، متلی اور الٹی
  • کبھی کبھار تیسرے دن کے آس پاس اوپری بدن پر ہلکے سرخ رنگ کا ریش (دانے یا سرخی) ظاہر ہو سکتا ہے

شیرخوار بچوں، دوسرے بچوں اور بالغوں کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں۔ علامات انفیکشن رکھنے والے مچھر کے کاٹنے کے بعد 3 سے 14 دن کے درمیان (بالعموم 4 سے 7 دن بعد) ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بخار بالعموم 6 دن کے قریب رہتا ہے۔ شدید ڈینگی بخار شاذونادر ہی ہوتا ہے لیکن کچھ مسائل موجود ہونے کی صورت میں یہ موت کا سبب بن سکتا ہے جیسے:

  • پلازما لیک ہونا (خون کے پلازما کی ابنارمل حرکت کے سبب پلازما قریبی ٹشوز میں داخل ہو جانا)
  • جسم میں پانی اکٹھا ہونا
  • سانس لینے میں تکلیف (جسم میں کافی آکسیجن نہیں پہنچتی)
  • زیادہ خون بہنا
  • اندرونی اعضا کی خرابی (اعضا اپنا کام درست نہیں کر پاتے)

ابتدائی علامات کے 3 سے 7 دن بعد بخار میں کمی کے ساتھ ساتھ ( 38°C سے کم درجۂ حرارت)، خبردار کرنے والی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن پر نظر رکھنا ضروری ہے، جیسے:

  • پیٹ میں شدید درد
  • تیز سانس چلنا
  • الٹی میں خون
  • مسلسل الٹیاں
  • مسوڑھوں سے خون آنا
  • تھکن، بے چینی۔

اگر آپ میں یہ علامات ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے بات کریں یا فوراً ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں۔​

ڈینگی کیسے پھیلتا ہے؟

لوگوں کو ڈینگی بخار ان مچھروں کے کاٹنے سے ہوتا ہے جن میں ڈینگی وائرس کا انفیکشن ہو۔

مچھر کو انفیکشن تب لگتا ہے جب مچھر خون میں ڈینگی وائرس رکھنے والے کسی شخص کو کاٹے۔ وائرس مچھر کے اندر بڑھتا ہے اور جب مچھر دوسرے لوگوں کو کاٹتا ہے تو انفیکشن ان لوگوں میں پہنچ جاتا ہے۔ جب ایک شخص کو ڈینگی وائرس رکھنے والا مچھر کاٹے تو مچھر کے کاٹنے کے بعد 3 سے 14 دن تک اس شخص کے خون میں وائرس موجود رہ سکتا ہے۔

یہ وائرس براہ راست ایک انسان سے دوسرے کو نہیں لگتا۔ کبھی کبھار لوگوں کو ڈینگی بخار خون لگوانے، ٹشو یا عضو کا عطیہ لینے، سوئی چبھنے یا ڈینگی وائرس والے خون کے جسم میں کسی عضو کی لعاب دار جھلّی میں پہنچنے سے ہو سکتا ہے۔

ڈینگی کا خطرہ کن لوگوں کو ہے؟

ڈینگی سے متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والوں کو یہ بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ڈینگی وائرس اور اسے پھیلانے والے مچھروں کی قسمیں ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا کے ٹروپیکل اور سب ٹروپیکل علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔

آسٹریلیا کے زیادہ تر علاقوں میں وہ مچھر نہیں پائے جاتے جو ڈینگی وائرس پھیلاتے ہیں، سوائے سنٹرل کوئینزلینڈ اور کوئینزلینڈ کے نہایت شمال کے (جہاں ڈینگی مچھر پائے جا سکتے ہیں) اور ٹورس سٹریٹ کے علاوہ (جہاں ایشیئن ٹائیگر مچھر پایا جا سکتا ہے)۔ جب کسی شخص کو آسٹریلیا سے باہر انفیکشن لگا ہو، اور پھر کوئینزلینڈ کے ان علاقوں میں مقامی ایشیئن ٹائیگر مچھر یا ڈینگی مچھر اس شخص کو کاٹے، اور وہ مچھر وائرس کو دوسرے لوگوں تک پہنچا دے تو ان علاقوں میں ڈینگی بخار کی وبا آ سکتی ہے ۔

جن لوگوں کو ڈینگی بخار ہو جائے، انہیں بالعموم لمبے عرصے کے لیے اسی قسم کے ڈینگی وائرس کے خلاف مدافعت حاصل ہو جاتی ہے لیکن ان کے لیے پھر بھی ڈینگی وائرس کی دوسری قسموں کے انفیکشن کا خطرہ باقی رہتا ہے۔

ڈ​ینگی کی روک تھام کیسے ہوتی ہے؟

فی الحال ابتدائی ڈینگی انفیکشن سے بچانے والی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔

مزید انفیکشنز (جنہیں سیکنڈری انفیکشن بھی کہا جاتا ہے) کی روک تھام Dengvaxia®, سے ہو سکتی ہے تاہم یہ ڈینگی ویکسین لگوانے کے لیے اہلیت کے کڑے تقاضے موجود ہیں۔ ویکسینیشن کے متعلق اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔

مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے یہ اقدامات کریں:

  • ہلکے رنگ کا لباس، پوری آستینوں والی قمیض، لمبے ٹراؤزر اور بند جوتے پہنیں۔ مچھر بدن پر کسے ہوئے لباس کے آرپار بھی کاٹ سکتے ہیں۔
  • اپنی جلد کے تمام کھلے حصوں پر ایسے ماسکیٹو ریپیلنٹ (مچھر بھگانے والے لوشن) کی برابر تہ لگائیں جس میں picaridin ، DEET یا لیمن یوکلپٹس آئل شامل ہو۔ نیچرل یا گھر میں بنائے گئے ریپیلنٹس مچھروں کے خلاف محدود تحفظ دلاتے ہیں۔ہدایات پڑھ کر معلوم کریں کہ آپ کو کتنے کتنے وقفوں سے دوبارہ ریپیلنٹ لگانا چاہیے۔ ہمیشہ پہلے سن سکرین لگائیں اور پھر ریپیلنٹ لگائیں۔
  • جن اوقات میں مچھر زیادہ کاٹتے ہیں، ان میں خاص احتیاط سے کام لیں۔
  • گھر کے بیرونی حصوں میں رکا ہوا یا کھڑا ہوا پانی ہٹائیں کیونکہ اس پانی میں مچھر پنپ سکتے ہیں۔
  • مچھر دانیاں استعمال کریں اور کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں لگائیں۔

آسٹریلیا سے باہر سفر کرتے ہوئے یا آسٹریلیا میں ڈینگی مچھروں والے ممکنہ علاقوں میں سفر کرتے ہوئے آپ کو یہ بھی چاہیے کہ:

  • جالیوں والے یا ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رہیں اور سوئیں
  • اگر آپ کے سونے کی جگہ اور کھلی جگہ ساتھ ساتھ ہو تو اپنے بستر پر مچھر دانی لگائیں۔ وہ مچھر دانی مؤثر رہتی ہے جس پر pyrethroid والا کیڑے مار استعمال کیا گيا ہو مثلاً permethrin۔ آپ سفر سے پہلے سے اس دوا کی ٹریٹمنٹ کے ساتھ تیار مچھر دانیاں خرید سکتے ہیں یا مچھر دانیاں خرید کر خود ان پر دوا لگا سکتے ہیں۔
  • ان اوقات کو ذہن میں رکھیں جن میں مچھر زیادہ کاٹتے ہیں، اور پھر ان اوقات میں خاص احتیاط سے کام لیں۔ مچھروں کی کچھ نسلیں جیسے Aedes aegypti دن بھر کاٹتی ہیں۔
  • ایسے علاقوں میں نہ جائیں جہاں مچھروں سے پھیلنے والی بیماریاں لگنے یا پھیلی ہونے کا علم ہو۔

ڈینگی کی​​ تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟

ڈاکٹر خون کا نمونہ لے کر اسے ڈینگی وائرس کے لیے ٹیسٹ کرواتا ہے۔ حال ہی میں انفیکشن ہونے کی تصدیق کے لیے دوبارہ خون کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہو سکتا ہے۔

ڈینگی کا عل​اج کیسے کیا جاتا ہے؟

ڈینگی بخار کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔ مریضوں کو ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے، آرام کرنا چاہیے اور وافر مقدار میں مشروبات پینے چاہیئں۔ بخار کم کرنے اور جوڑوں کے درد میں افاقے کے لیے پیراسیٹامول لی جا سکتی ہے۔ تاہم اسپرین اور آئبوپروفین نہیں لینی چاہیئں کیونکہ ان کی وجہ سے خون بہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

 

شدید ڈینگی کے لیے ایمرجنسی طبی نگہداشت ضروری ہوتی ہے اور ہسپتال میں بھرپور نگرانی اور علاج کیا جاتا ہے۔

صحت عامّہ کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں؟

جب لیبارٹریاں کسی شخص کو ڈینگی بخار ہونے کی تصدیق کریں تو وہ اپنے لوکل پبلک ہیلتھ یونٹ کو اطلاع دیتی ہیں۔ پبلک ہیلتھ یونٹس ہر مریض سے بات کر کے طے کرتے ہیں کہ اس شخص کو کس علاقے میں انفیکشن لگا تھا۔ یہ معلومات یہ پتہ چلانے کے لیے اہم ہیں کہ آيا یہ بیماری ان علاقوں میں پھیل رہی ہے جنہیں کم خطرہ رکھنے والے علاقے سمجھا جاتا ہے اور یہ معلومات پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی اہم ہیں۔

اضاف​​ی وسائل

اگر آپ میں ڈینگی کی علامات ہوں اور آپ کو فکر ہو تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے بات کریں یا ایمرجنسی صورتحال میں ٹریپل زیرو (000) پر کال کریں۔

مزید معلومات کے لیے 131 450 پر ٹرانسلیٹنگ اینڈ انٹرپریٹنگ سروس (TIS) کو کال کر کے اپنی زبان میں مفت اور رازدارانہ مدد لیں۔ انہیں اپنی زبان بتائیں اور کہیں کہ آپ ان سے بات کرنا چاہتے ہیں:

  • 1300 066 055 پر آپ کا لوکل پبلک ہیلتھ یونٹ
  • 1800 022 222 پر Healthdirect، 24 گھنٹے صحت کے متعلق معلومات کے لیے
  • یا اپنے مقامی فارماسسٹ سے بات کریں۔

ڈینگی کی روک تھام کے متعلق مزید معلومات کے لیے دیکھیں:

​​​
Current as at: Friday 19 December 2025
Contact page owner: One Health