ڈینگی وائرس لوگوں میں ان مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے جن میں ڈینگی وائرس کا انفیکشن ہو۔ ڈینگی وائرس انفیکشن (جسے ڈینگی بخار بھی کہا جاتا ہے) کی علامات شدید فلو جیسی ہوتی ہیں۔ یہ وائرس اور اسے پھیلانے والے مچھروں کی قسمیں ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا کے ٹروپیکل اور سب ٹروپیکل ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والوں کو انفیکشن کی روک تھام کی خاطر مچھروں کے کاٹنے سے بچنا چاہیے۔
ڈینگی ایک وائرل انفیکشن ہے جو چار قسموں کے ڈینگی وائرس (DENV-1 ، DENV-2 ، DENV-3 اور DENV-4 ) میں سے کسی ایک کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مچھروں کی دو قسمیں ڈینگی وائرس پھیلا سکتی ہیں: ڈینگی مچھر (Aedes aegypti) اور ایشیئن ٹائیگر مچھر (Aedes albopictus) ۔ ڈینگی ننھے بچوں، بڑے بچوں اور بالغوں کو متاثر کرتا ہے۔
جس شخص کو ڈینگی بخار ہو، اس میں شدید فلو جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جیسے:
شیرخوار بچوں، دوسرے بچوں اور بالغوں کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں۔ علامات انفیکشن رکھنے والے مچھر کے کاٹنے کے بعد 3 سے 14 دن کے درمیان (بالعموم 4 سے 7 دن بعد) ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بخار بالعموم 6 دن کے قریب رہتا ہے۔ شدید ڈینگی بخار شاذونادر ہی ہوتا ہے لیکن کچھ مسائل موجود ہونے کی صورت میں یہ موت کا سبب بن سکتا ہے جیسے:
ابتدائی علامات کے 3 سے 7 دن بعد بخار میں کمی کے ساتھ ساتھ ( 38°C سے کم درجۂ حرارت)، خبردار کرنے والی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن پر نظر رکھنا ضروری ہے، جیسے:
اگر آپ میں یہ علامات ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے بات کریں یا فوراً ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں۔
لوگوں کو ڈینگی بخار ان مچھروں کے کاٹنے سے ہوتا ہے جن میں ڈینگی وائرس کا انفیکشن ہو۔
مچھر کو انفیکشن تب لگتا ہے جب مچھر خون میں ڈینگی وائرس رکھنے والے کسی شخص کو کاٹے۔ وائرس مچھر کے اندر بڑھتا ہے اور جب مچھر دوسرے لوگوں کو کاٹتا ہے تو انفیکشن ان لوگوں میں پہنچ جاتا ہے۔ جب ایک شخص کو ڈینگی وائرس رکھنے والا مچھر کاٹے تو مچھر کے کاٹنے کے بعد 3 سے 14 دن تک اس شخص کے خون میں وائرس موجود رہ سکتا ہے۔
یہ وائرس براہ راست ایک انسان سے دوسرے کو نہیں لگتا۔ کبھی کبھار لوگوں کو ڈینگی بخار خون لگوانے، ٹشو یا عضو کا عطیہ لینے، سوئی چبھنے یا ڈینگی وائرس والے خون کے جسم میں کسی عضو کی لعاب دار جھلّی میں پہنچنے سے ہو سکتا ہے۔
ڈینگی کا خطرہ کن لوگوں کو ہے؟
ڈینگی سے متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والوں کو یہ بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ڈینگی وائرس اور اسے پھیلانے والے مچھروں کی قسمیں ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا کے ٹروپیکل اور سب ٹروپیکل علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔
آسٹریلیا کے زیادہ تر علاقوں میں وہ مچھر نہیں پائے جاتے جو ڈینگی وائرس پھیلاتے ہیں، سوائے سنٹرل کوئینزلینڈ اور کوئینزلینڈ کے نہایت شمال کے (جہاں ڈینگی مچھر پائے جا سکتے ہیں) اور ٹورس سٹریٹ کے علاوہ (جہاں ایشیئن ٹائیگر مچھر پایا جا سکتا ہے)۔ جب کسی شخص کو آسٹریلیا سے باہر انفیکشن لگا ہو، اور پھر کوئینزلینڈ کے ان علاقوں میں مقامی ایشیئن ٹائیگر مچھر یا ڈینگی مچھر اس شخص کو کاٹے، اور وہ مچھر وائرس کو دوسرے لوگوں تک پہنچا دے تو ان علاقوں میں ڈینگی بخار کی وبا آ سکتی ہے ۔
جن لوگوں کو ڈینگی بخار ہو جائے، انہیں بالعموم لمبے عرصے کے لیے اسی قسم کے ڈینگی وائرس کے خلاف مدافعت حاصل ہو جاتی ہے لیکن ان کے لیے پھر بھی ڈینگی وائرس کی دوسری قسموں کے انفیکشن کا خطرہ باقی رہتا ہے۔
فی الحال ابتدائی ڈینگی انفیکشن سے بچانے والی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔
مزید انفیکشنز (جنہیں سیکنڈری انفیکشن بھی کہا جاتا ہے) کی روک تھام Dengvaxia®, سے ہو سکتی ہے تاہم یہ ڈینگی ویکسین لگوانے کے لیے اہلیت کے کڑے تقاضے موجود ہیں۔ ویکسینیشن کے متعلق اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔
مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے یہ اقدامات کریں:
آسٹریلیا سے باہر سفر کرتے ہوئے یا آسٹریلیا میں ڈینگی مچھروں والے ممکنہ علاقوں میں سفر کرتے ہوئے آپ کو یہ بھی چاہیے کہ:
ڈاکٹر خون کا نمونہ لے کر اسے ڈینگی وائرس کے لیے ٹیسٹ کرواتا ہے۔ حال ہی میں انفیکشن ہونے کی تصدیق کے لیے دوبارہ خون کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہو سکتا ہے۔
ڈینگی بخار کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔ مریضوں کو ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے، آرام کرنا چاہیے اور وافر مقدار میں مشروبات پینے چاہیئں۔ بخار کم کرنے اور جوڑوں کے درد میں افاقے کے لیے پیراسیٹامول لی جا سکتی ہے۔ تاہم اسپرین اور آئبوپروفین نہیں لینی چاہیئں کیونکہ ان کی وجہ سے خون بہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
شدید ڈینگی کے لیے ایمرجنسی طبی نگہداشت ضروری ہوتی ہے اور ہسپتال میں بھرپور نگرانی اور علاج کیا جاتا ہے۔
جب لیبارٹریاں کسی شخص کو ڈینگی بخار ہونے کی تصدیق کریں تو وہ اپنے لوکل پبلک ہیلتھ یونٹ کو اطلاع دیتی ہیں۔ پبلک ہیلتھ یونٹس ہر مریض سے بات کر کے طے کرتے ہیں کہ اس شخص کو کس علاقے میں انفیکشن لگا تھا۔ یہ معلومات یہ پتہ چلانے کے لیے اہم ہیں کہ آيا یہ بیماری ان علاقوں میں پھیل رہی ہے جنہیں کم خطرہ رکھنے والے علاقے سمجھا جاتا ہے اور یہ معلومات پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی اہم ہیں۔
اگر آپ میں ڈینگی کی علامات ہوں اور آپ کو فکر ہو تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے بات کریں یا ایمرجنسی صورتحال میں ٹریپل زیرو (000) پر کال کریں۔
مزید معلومات کے لیے 131 450 پر ٹرانسلیٹنگ اینڈ انٹرپریٹنگ سروس (TIS) کو کال کر کے اپنی زبان میں مفت اور رازدارانہ مدد لیں۔ انہیں اپنی زبان بتائیں اور کہیں کہ آپ ان سے بات کرنا چاہتے ہیں:
ڈینگی کی روک تھام کے متعلق مزید معلومات کے لیے دیکھیں: