ٹائیفائڈ سالمونیلا بیکٹیریا کی دو مختلف سیروٹائپس (قسموں) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ان ممالک میں عام ہے جہاں صفائی کا معیار خراب ہے یا جہاں پینے کے پانی کی ٹریٹمنٹ نہیں ہوتی۔ کم ترقی یافتہ ممالک میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کے لیے جانے والوں کو ٹائیفائڈ ویکسینیشن کا پرزور مشورہ دیا جاتا ہے۔
ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ کی بیماریاں سالمونیلا بیکٹیریا کی دو مختلف قسموں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ انفیکشن ایک ہی جیسی بیماری پیدا کرتے ہیں۔ پیرا ٹائیفائڈ انفیکشنز بالعموم ٹائیفائڈ انفیکشن کی نسبت ہلکے اور کم عام ہوتے ہیں۔
آسٹریلیا میں زیادہ تر ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ انفیکشنز لوگوں کو آسٹریلیا سے باہر ہوتے ہوئے لگتے ہیں۔ آسٹریلیا میں یہ بیماریاں شاذونادر ہیں۔
یہ انفیکشنز سالمونیلا کی دوسری قسموں سے مختلف ہیں جو بالعموم معدے اور آنتوں کا انفیکشن (گیسٹرو) کا سبب بنتی ہیں۔
لوگوں کو ہلکی یا شدید علامات کا تجربہ ہو سکتا ہے۔ علامات میں یہ شامل ہو سکتی ہیں:
ٹائیفائڈ کی علامات بالعموم انفیکشن لگنے کے 8 سے 14 دن بعد شروع ہوتی ہیں۔ علامات انفیکشن لگنے کے بعد جلد ہی یعنی 3 دن بعد بھی شروع ہو سکتی ہیں یا دیر سے یعنی 60 دن بعد تک بھی شروع ہو سکتی ہیں۔ پیرا ٹائیفائڈ کی علامات بالعموم 1 سے 10 دن کے اندر ظاہر ہو جاتی ہیں۔
علاج نہ ہونے کی صورت میں ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ جان لیوا ہو سکتے ہیں۔ یہ اہم ہے کہ علامات شروع ہوتے ہی آپ فوراً ڈاکٹر سے بات کریں۔
علاج کے ساتھ زیادہ تر لوگ کئی ہفتے بعد پوری طرح ٹھیک ہو جاتے ہیں اور علامات بالعموم ایک ہفتے میں ختم ہو جاتی ہیں۔
کچھ لوگوں میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن اس کے باوجود ان کے پاخانے اور/یا پیشاب میں ایک سال سے زیادہ عرصہ بیکٹیریا موجود رہتا ہے۔ ان لوگوں کو کیریئرز کہا جاتا ہے اور ان سے دوسروں کو انفیکشن لگ سکتا ہے۔
ٹائیفائڈ ان ممالک میں زیادہ عام ہے جہاں صفائی کا معیار خراب ہے، ہاتھ صاف رکھنے کا خیال نہیں رکھا جاتا، خوراک تیار اور پیش کرنے کے طریقے غیر معیاری ہیں اور پینے کے پانی کی ٹریٹمنٹ نہیں ہوتی۔
ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ کا سبب بننے والے بیکٹیریا انفیکشن میں مبتلا افراد کے پاخانے (پوٹی) اور کبھی کبھار پیشاب میں پائے جاتے ہیں۔
ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ تب پھیلتے ہیں جب لوگ پاخانے سے آلودہ خوراک کھاتے ہیں یا آلودہ پانی پیتے ہیں۔ مکھیاں بیکٹیریا کو خوراک میں پہنچا سکتی ہیں یا خوراک اگانے، خوراک کی تیاری یا خوراک کو رکھنے کے لیے آلودہ پانی استعمال ہوتا ہے۔
کم ترقی یافتہ ممالک میں نہ دھلے ہوئے پھل، سبزیوں اور سخت خول والی سمندری مخلوقات نہیں کھانی چاہیئں۔
آسٹریلیا میں ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ اکثر ان لوگوں کو ہوتا ہے جو ایسے علاقوں کا سفر کریں جہاں یہ بیماریاں عام ہیں۔
دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کے لیے ترقی پذیر ممالک (بالخصوص بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش) جانے والوں کے لیے اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔
انفیکشن میں مبتلا شخص کے ساتھ رہنے والوں، یا جو لوگ ٹائیفائڈ یا پیرا ٹائیفائڈ انفیکشن رکھنے والے کسی شخص کے ساتھ سفر کر چکے ہوں، انہیں اپنا ٹائیفائڈ کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔
علامات ظاہر ہونے کی صورت میں لوگوں کو اپنے جنرل پریکٹیشنر سے ملنا چاہیے۔
جن ممالک میں ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ عام ہے، وہاں کا سفر کرنے والوں کو چاہیے کہ:
دو سال اور اس سے زیادہ عمر کے ان سب لوگوں کو ٹائیفائڈ ویکسینیشن کا مشورہ دیا جاتا ہے جو ایسے ممالک کو جانے والے ہوں جہاں ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ عام ہیں۔
پیرا ٹائیفائڈ کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔
جن لوگوں کو ٹائیفائڈ یا پیرا ٹائیفائڈ ہو یا جن کے گھر میں رہنے والے کسی شخص کو ٹائیفائڈ انفیکشن ہو، انہیں:
ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ کی تشخیص کے لیے آپ کا ڈاکٹر یا مقامی ہسپتال خون یا پاخانے کے نمونے کو ٹیسٹ کرے گا۔
اینٹی بائیوٹکس سے ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ کا علاج ہو سکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹک علاج ان لوگوں کے لیے بھی ضروری ہے جن میں علامات نہ ہوں لیکن جو ٹائیفائڈ اور پیرا ٹائیفائڈ کے کیریئرز ہو سکتے ہوں۔
اگر علامات شدید ہوں تو ہسپتال میں داخلہ ضروری ہو سکتا ہے۔
لیبارٹریاں اپنے لوکل پبلک ہیلتھ یونٹ کو ٹائیفائڈ یا پیرا ٹائیفائڈ کے کیسوں کی اطلاع دینے کی پابند ہیں۔
پبلک ہیلتھ یونٹ کا عملہ ڈاکٹر یا مریض (یا مریض کو سنبھالنے والوں) کا انٹرویو کر کے معلوم کرے گا کہ انفیکشن کیسے ہوا تھا۔
NSW Health کے ساتھ کام کرتے ہوئے NSW Food Authority ٹائیفائڈ یا پیرا ٹائیفائڈ میں مبتلا خوراک کا کام کرنے والوں کے ماحول میں انفیکشن کے پھیلاؤ کی چھان بین کے لیے ذمہ دار ہے۔
آپ کا لوکل پبلک ہیلتھ یونٹ کام اور سکول سے دور رہنے کے متعلق مزید معلومات دے سکتا ہے۔ جن لوگوں کو کام پر آنے سے منع کیا گیا ہو، انہیں کئی بار پاخانے کے ٹیسٹ کروانے کے بعد ہی کام پر واپسی کی اجازت ملے گی۔
مزید معلومات کے لیے 131 450 پر ٹرانسلیٹنگ اینڈ انٹرپریٹنگ سروس (TIS) کو کال کر کے اپنی زبان میں مفت اور رازدارانہ مدد لیں۔ انہیں اپنی زبان بتائیں اور کہیں کہ آپ ان سے بات کرنا چاہتے ہیں: