مچھروں اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے بچا جائے۔ مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے طریقے معلوم کریں – سپرے کریں، بدن ڈھکیں، صفائی کریں، جالیاں لگائیں!
مچھر انسانوں اور جانوروں کے سانس کے ساتھ خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی طرف کھنچے آتے ہیں اور ہماری جسمانی حرارت سے بھی مچھروں کو پتہ چلتا ہے کہ ہم کہاں ہیں۔ ایسا دکھائی دینے کی وجہ واضح نہیں ہے کہ مچھر کچھ لوگوں کو دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ کاٹتے ہیں لیکن کچھ شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی جلد کی بو سے انہیں مچھر کاٹنے کے امکانات پر اثر پڑ سکتا ہے۔
مچھر صبح اور شام کے نیم اندھیرے وقت میں اور شام سے رات تک زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ ان اوقات میں مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے محتاط رہیں۔
مچھر گہرے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس لوگوں کی طرف اس لیے زیادہ کھنچے آتے ہیں کہ مچھروں کے لیے ہلکے رنگوں کے لباس کی نسبت گہرے اور کالے رنگ کا لباس دیکھنا زیادہ آسان ہے۔
اگرچہ ہلکے رنگ کے لباس کی وجہ سے کم مچھر آپ کے قریب آئیں گے، اگر آپ نے ریپیلنٹ نہ لگایا ہوا تو مچھر آپ کو کاٹ سکتے ہیں۔
مچھروں سے بچاؤ کے لیے جسم پر لگائی جانے والی ڈیوائسز (جن میں پیچز یا کلائی کے بینڈز شامل ہیں) یا الٹراسونک ڈیوائسز اور موبائل فون ایپس مچھروں کے خلاف مؤثر تحفظ نہیں دلاتیں۔
آپ جو مؤثر ترین کام کر سکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ آپ اپنے جسم پر ٹروپیکل کیڑوں کے خلاف ایسا ریپیلنٹ ملیں جس میں DEET ، picaridin یا لیمن یوکلپٹس آئل شامل ہو، اور پورے جسم کو ڈھکنے والا ڈھیلا لباس پہنیں۔
اس خیال کے حق میں سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں کہ بعض چیزیں کھانے اور پینے سے مچھروں کو کاٹنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ اپنے بیک یارڈ میں مچھروں کی تعداد کم کریں اور ریپیلنٹ اور جسم کو بچانے والا لباس پہن کر اپنی حفاظت کا بندوبست کریں۔
ٹروپیکل کیڑوں کے خلاف ایسے ریپیلنٹس جن میں diethyltoluamide (DEET) ، picaridin یا لیمن یوکلپٹس آئل ہو، مچھروں کے خلاف مؤثر ترین ریپیلنٹس ہیں۔ ریپیلنٹ کے لیبل پر اس کے اجزا کی فہرست لکھی ہوتی ہے۔ ریپیلنٹ کی طاقت سے طے ہوتا ہے کہ اس کا تحفظ کتنی دیر برقرار رہے گا، زیادہ کانسینٹریشن والے ریپیلنٹ زیادہ دیر تک تحفظ دلاتے ہیں۔ ہمیشہ لیبل پر پڑھیں کہ کتنے وقفوں سے دوبارہ ریپیلنٹ لگانا ضروری ہے۔
مچھروں سے بچاؤ کے لیے کلائی کے بینڈز اور پیچز کا مشورہ نہیں دیا جاتا کیونکہ اس کا ثبوت موجود نہیں ہے کہ یہ مچھروں کے کاٹنے سے اچھا بچاؤ کرتے ہیں۔
خیال رکھیں کہ آپ اپنی جلد کے تمام کھلے حصوں پر ریپیلنٹ کی باریک اور برابر تہ لگا رہے ہیں اور اسے اچھی طرح مل کر جلد میں جذب کر رہے ہیں۔ محض جسم کے کچھ حصوں پر سپرے (mist) نہ کریں کیونکہ اس سے آپ کو پورا تحفظ نہیں ملے گا۔
آنکھوں اور منہ کے قریب اور کھلے زخموں، پھٹی ہوئی یا رگڑ سے چھلی ہوئی جلد پر ریپیلنٹ نہ لگائیں۔ ہمیشہ ریپیلنٹ کے لیبل پر لکھی ہدایات پر عمل کریں۔
اگر آپ سن سکرین استعمال کر رہے ہوں تو پہلے سن سکرین اور پھر ریپیلنٹ لگائیں۔ بچوں کو کبھی خود ریپیلنٹ لگانے کی اجازت نہ دیں۔
یہ ریپیلنٹ کی طاقت سے طے ہوتا ہے کہ اس کا تحفظ کتنی دیر برقرار رہے گا، اور زیادہ کانسینٹریشن والے ریپیلنٹ زیادہ دیر تک تحفظ دلاتے ہیں۔ ریپیلنٹ کے لیبل پر لکھی ہدایات کے مطابق وقفوں سے دوبارہ ریپیلنٹ لگائیں یا جب آپ کو مچھروں کے کاٹنے کا احساس ہو تو دوبارہ ریپیلنٹ لگا لیں۔
پسینے سے ریپیلنٹ کا اثر کم ہو جاتا ہے اس لیے طاقت طلب سرگرمی یا گرم موسم میں زیادہ بار ریپیلنٹ لگانا ضروری ہو سکتا ہے۔ تیراکی کے بعد بھی دوبارہ ماسکیٹو ریپیلنٹ لگانا ضروری ہے۔
ریپیلنٹس مچھروں کی حسّوں جیسے سونگھنے اور چکھنے کی حسّ کو کنفیوز کر کے ان کے لیے آپ کی جلد کو تلاش کرنے اور کاٹنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔
ماسکیٹو ریپیلنٹ مکھیوں کے سپرے کی طرح نہیں ہے کیونکہ ریپیلنٹ مچھروں کو آپ کو کاٹنے سے روکتا ہے لیکن انہیں ہلاک نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ ریپیلنٹ صرف ان حصوں کو محفوظ رکھتا ہے جہاں ریپیلنٹ لگا ہوا ہو – مچھر آپکی جلد کے اس ذرا سے حصے کو بھی تلاش کر لیں گے جہاں ریپیلنٹ نہ لگا ہو لہذا ہر جگہ برابر ریپیلنٹ لگانے کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
کیڑے بھگانے والے وہ ریپیلنٹس محفوظ اور مؤثر پائے گئے ہیں جن میں DEET ، picaridin اور لیمن یوکلپٹس آئل شامل ہوں۔ یہ مصنوعات Australian Pesticides and Veterinary Medicines Authority (آسٹریلیا میں کیڑے مار دوائیوں اور جانوروں کے لیے دوائیوں کی نگران اتھارٹی، (APVMA)) کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جو ان مصنوعات کے محفوظ اور مؤثر ہونے کو چیک کرتی ہے۔ ماسکیٹو بینڈز اور پیچز کے مچھروں کے خلاف اثر رکھنے کے کوئی شواہد نہیں ہیں، اور نیچرل ریپیلنٹس صرف محدود تحفظ دلاتے ہیں۔
خیال رکھیں کہ آپ صرف منظور شدہ مصنوعات استعمال کر رہے ہیں اور لیبل پر لکھی ہدایات پڑھیں۔
زیادہ تر ریپیلنٹس 3 ماہ اور اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے تب محفوظ ہیں کہ انہیں ہدایات کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہو، تاہم کچھ مصنوعات صرف 12 ماہ اور اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو لگانے کا مشورہ دیا جاتا ہے – ہمیشہ ریپیلنٹ کے لیبل پر ہدایات پڑھیں کہ یہ کس عمر کے لوگوں کے استعمال کے لیے بتائی جا رہی ہیں۔ مؤثر ترین ریپیلنٹس میں میں DEET ، picaridin یا لیمن یوکلپٹس آئل شامل ہوتا ہے۔
بچوں کو روزانہ صبح ریپیلنٹ لگائیں تاکہ وہ دن کے دوران محفوظ رہیں۔ بچوں کو خود ریپیلنٹ لگانے کی اجازت نہ دیں اور ہمیشہ لیبل پر لکھی ہدایات پڑھیں۔
نیچرل ریپیلنٹس جیسے سِٹرونیلا، یوکلپٹس، ٹی ٹری آئل اور دوسری 'نیچرل' مصنوعات مچھروں کے کاٹنے کے خلاف بالعموم بہت محدود تحفظ دلاتی ہیں۔
آسٹریلیا میں فروخت ہونے والے تمام کیڑوں کے ریپیلنٹس کا Australian Pesticides and Veterinary Medicines Authority (APVMA) کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے جو ان مصنوعات کے محفوظ اور مؤثر ہونے کو چیک کرتی ہے۔ جو مصنوعات APVMAکے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں، ان کے استعمال سے جلد پر نقصان دہ ری ایکشن کا زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔
اپنے گھر کے آس پاس مچھروں کی تعداد کم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ:
مچھر کے کاٹنے سے بننے والے زیادہ تر دانوں کا خیال ایسے رکھا جا سکتا ہے کہ اس جگہ کو صابن اور پانی سے دھوئیں یا درد اور سوجن کم کرنے کے لیے آئس پیک لگائیں۔ اینٹی ہسٹامین کریم سے بھی کھجلی کو آرام آ سکتا ہے۔ پراڈکٹ کے لیبل پر لکھی ہدایات پر عمل کرنے کا خیال رکھیں۔
دانوں کو کھجانے سے باز رہیں کیونکہ اس سے جلد پھٹ سکتی ہے اور انفیکشن ہو سکتا ہے۔ انفیکشن زدہ دانے کی علامات میں سوجن، درد، سرخی اور سوزش شامل ہیں۔ اگر آپ کو لگے کہ دانے میں انفیکشن ہو گيا ہے تو اپنے فارماسسٹ سے مدد لیں۔
اگر مچھر کے کاٹنے پر آپ کی جلد پر سرخ دھبّے بن جائیں، فلو جیسی علامات یعنی بخار، کپکپی، سر میں درد، جوڑوں یا پٹھوں میں درد (سوجن یا اکڑاؤ) ہو، شدید تھکاوٹ ہو یا آپ کو ویسے ہی طبیعت خراب لگے تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں یا ایمرجنسی صورتحال میں ٹریپل زیرو (000) پر کال کریں یا اپنے قریب ترین ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں جائیں۔
سفر یا کیمپنگ میں مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ:
مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے وسائل